ابنا: شام میں حالیہ دنوں میں عرب مبصرین کی ٹیم کے دو اہلکاروں احمد المناعی اور فتحی بالحاج نے فاش کیا ہے کہ شام میں سرگرم مسلح دہشت گرد ایسے میزائلوں سے استفادہ کررہے ہیں جن کی قیمت ایک لاکھ ڈالر ہے اور شامی حکومت کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کرنے میں مسلح شدت پسندوں کےدسیوں نیٹ ورک سرگرم عمل ہیں اور امریکہ نواز عربی اور مغربی میڈيا شام کے خلاف جھوٹی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو قیمتی اوربڑی مقدار میں ہتھیارکون فراہم کررہا ہے؟ ان دونوں شخصیتوں نے تیونس میں شام کے نام نہاد دوستوں کی کانفرنس سے قبل ایک سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیونس کی کانفرنس کا مقصد شام کے معاملے کو بین الاقوامی رخ دینا ہے اور یہ کانفرنس در حقیقت امریکہ اور اسرائيل کی مرضی اور منشاء کے مطابق منعقد کی جارہی ہے انھوں نے کہا کہ عرب ممالک کو اب امریکہ اور اسرائيل کی تقلید ترک کردینی چاہیے اور اپنی پوری توجہ مسئلہ فلسطین پر مبذول کرنی چاہیے انھوں نے کہا کہ شام میں عدم استحکام امریکہ اور اسرائیل کی سوچی سمجھی چال ہے اور وہ اس سازش کے ذریعہ مسئلہ فلسطین سے عرب مسلمانوں کی توجہ ہٹنا چاہتے ہیں انھوں نے کہا کہ دنیائے عرب میں جاری عوامی تحریک سےامریکہ اور اسرائيل پر وحشت طاری ہے اور وہ ان تحریکوں کا رخ موڑنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور اس میں بعض عرب ممالک ان کا ساتھ دے رہے ہیں انھوں نے کہا کہ شام کے عوام واضح طور پر بشار اسد کے ساتھ ہیں اور بشار اسد واحد عرب صدر ہے جو امریکہ اور اسرائيل کا مخالف اور فلسطین اور لبنان میں جاری اسلامی مقاومت کا حامی ہے۔
بالحاج نے کہا کہ عرب لیگ نے آج تک وہی کیا ہے جو امریکہ نے اس سے کہا ہے عرب لیگ فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف واضح اور ٹھوس اقدام کیوں نہیں کرتی؟ اس لئے کہ امریکہ اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے ذرائع کے مطابق عرب عوام پر جب تک امریکہ نواز حکمراں مسلط رہیں گے تب تو نہ وہ علمی سطح پر پیشرفت حاصل کرسکیں گی اور نہ ہی انھیں استقلال اور جمہوریت نصیب ہوگی۔ ........
/169